Quote and stories

History of christmas in urdu:

 

کرسمس کیا ہے ؟

History of christmas in urdu:
کرسمس نہ صرف دنیا میں عیسائیوں کا مذہبی تہوار ہے بلکہ تجارتی لحاظ سے بھی اس کی بہت اہمیت ہے۔ تقریباً دو ہزار سال سے مذہبی اور روایتی سیکولر لوگ اس تہوار کو جوش و جذبے سے منا رہے ہیں۔عیسائیت سے تعلق رکھنے والے لوگ اس دن کو حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کا دن سمجھ کر مناتے ہیں۔ اس دن لوگ ایک دوسرے کو قیمتی تحفے تحائف دیتے ہیں۔ سجاوٹ کے لئے کرسمس کے درخت کو روشنی سے منور کرتے ہیں۔ مذہبی رسومات کے لئے چرچ میں شرکت اور دوست احباب کے لئے دعوت کا اہتمام کرتے ہیں۔ اور بچے سانتق لاس کا انتظار کرتے ہیں۔ دنیا کے تمام عیسائی ممالک میں کرسمس کے دن چھٹی ہوتی ہے۔ اور 25 دسمبر 1876 سے امریکہ میں باقاعدہ اس چھٹی کو فیڈرل چھٹی کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ لیکن کیا یہ دن واقعی حضرت عیسی کی پیدائش کا دن ہے؟ یا حضرت عیسی سے پہلے بھی دنیا میں اس دن کو منایا جاتا تھا؟ کیا یہ دن قدیم رومن اور یونانی لوگوں کے تہوار سے لیا گیا ہے؟

: لفظ کرسمس کا مطلب

کرسمس دو لفظوں کرائسٹ اور ماس کا مرکب ہے۔ کرائسٹ کا مطلب حضرت عیسی علیہ السلام ہے اور ماس کا مطلب جمع ہونے کے ہیں ۔ یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کے لیے اکٹھا ہونا۔ کرسمس کا لفظ چوتھی صدی عیسوی میں ملتا ہے۔ اور اس کا استعمال اس سے پہلے کہیں بھی نہیں ملتا۔ کرسمس کے حقائق کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تاریخ کے اوراق کو الٹ کر دیکھیں۔

: تاریخ

دنیا بھر کے بہت سارے لوگ موسم سرما کا جشن مناتے آ رہے ہیں۔ اور یہ جشن عموماً 20 سے 25 دسمبر کے درمیان میں مناتے ہیں۔ عیسائیوں کے ان ممالک میں سردیوں میں اکثر بہت زیادہ سردی پڑتی ہے۔ اور اس کے ساتھ سردی اپنے ساتھ کئی اور عذاب لے کر آتی ہے۔ اور اس میں بہت سارے لوگوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔
قدیم پیگن لوگ اس وجہ سے سورج نکلنے کے لیے جشن منایا کرتے تھے۔ اس مقصد کے لیے لوگ لکڑیوں کے بڑے بڑے گٹھے جمع کرتے اور ان کو جلاتے تھے۔ لوگ اس آگ کے بجنے تک ایک دوسرے کی دعوت کرتے تھے۔ اور بعض اوقات اس آگ کو بجھنے کے لئے بارہ دن لگ جاتے تھے۔ دسمبر کے آخری دنوں میں اس کو منانے کا اچھا وقت ہوتا تھا۔ اور اس دوران یہ اپنے مویشیوں کو ذبخ بھی کرتے تھے تاکہ آنے والے دنوں میں ان کو سردیوں میں چارہ نہ ڈالنا پڑے۔ اور بہت سارے لوگوں کے لیے سال میں ایک یہی مہینہ ہوتا تھا جس میں ان کو گوشت میسر ہوتا تھا۔ اور سال کے اسی مہینے میں ان کی شراب پینے کے لئے تیار ہو جاتی تھی۔
اسی طرح جرمنی میں لوگ اپنے دیوتا اوڈین کے لیے سردیوں میں یہ تہوار مناتے تھے۔ یہ لوگ اس اوڈین سے بہت زیادہ ڈرتے تھے۔ کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ اوڈین رات کو ان کے اعمال لے کر آسمان میں اڑتا ہے۔ اور وہ اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ کس کو سزا دینی ہے اور کس کو خوشی دینی ہے۔ اس کے ڈر کی وجہ سے زیادہ تر لوگ اپنے گھروں کے اندر ہی رہتے تھے۔

: روم اور کرسمس

اگر چہ روم میں اتنی سردی نہیں پڑتی تھی۔ لیکن پھر بھی وہاں کے لوگ سیٹرن کی یاد میں ایک تہوار منعقد کرتے تھے۔ سیٹرن اہل روم کے عقیدے کے مطابق فصلوں اور کاشتکاری کا دیوتا تھا۔ اس تہوار میں وہ رنگ رلیاں مناتے اور آگ کے الاؤ جلاتے تھے۔
عیسائیت کے ابتدائی دنوں میں عیسائی صرف ایسٹر کا تہوار ہی مناتے تھے۔ جبکہ حضرت عیسیٰ کا ولادت کا دن نہیں منایا جاتا تھا۔ کیونکہ بائبل میں ان کی پیدائش کا دن نہیں ملتا۔ کچھ شہادتوں کے مطابق ان کی پیدائش موسم بہار میں ہوئی تھی۔ اس مسئلے کے لئے ان کے پادریوں میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ان کی ولادت کو 25 دسمبر کے دن مناتے ہیں۔ جبکہ مشرقی آرتھوڈوکس6 جنوری کو اور آرمینی کلیسا 19 جنوری کو مناتے ہیں۔

: کرسمس کا آغاز

 
چوتھی صدی میں چرچ کے حکام نے ان کی ولادت کا دن تہوار کی شکل میں منانا شروع کر دیا۔ چنانچہ پوپ جوئیس اول نے 25 دسمبر کو ان کی ولادت کے دن کے طور پر مختص کیا۔ عام طور پر لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ 25 دسمبر کے دن کے پیچھے جو مقصد کار فرما تھا وہ پیگن کی رسومات کو کرسمس کی رسومات میں مدغم کرنا تھا۔ چنانچہ دسمبر میں ہونے والے ان تہواروں نے آپس میں مدغم ہو کر کرسمس کی شکل اختیار کی۔ یہ تہوار پہلے قرب و جوار میں مشہور ہوا۔ پھر 432 عیسوی میں یہ مصر تک پھیل گیا۔ اور چھٹی صدی کے اختتام تک یہ تہوار انگلینڈ تک۔ اور آٹھویں صدی تک یہ باقی ممالک تک پہنچ گیا۔ آج بھی یونان اور روس کے لوگ اس دن کو 25 دسمبر سے 13 دن بعد مناتے ہیں۔ اور اس بات کو مانا جاتا ہے کہ اسی دن تین دانشور حضرت عیسیٰ کو ملے تھے۔ کرسمس کے تہوار کو روایتی تہوار کے دن منانے کے فیصلے سے چرچ کے حکام کو یہ امید تھی کہ اس تہوار کو سورج پرست اقوام میں مقبولیت حاصل ہو گی۔ لیکن یہ تہوار منانا کیسے ہے یہ احکامات نہیں دئیے گے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ پیگن مذہب کے اوپر عیسائیت نے جگہ لے لی تھی۔ کرسمس کے دن یہ لوگ چرچ میں جاتے تھے اور واپس آ کر شراب پیتے اور مست ہو جاتے تھے۔ غریب لوگ امیر لوگوں کے گھر جا کر کچے کھانے اور شراب کا مطالبہ کرتے تھے۔

: کروم ویل کا حملہ

سترویں صدی میں یورپ میں کرسمس منانے کے تہوار میں تبدیلی آئی تھی۔ 1645 میں جب کروم ویل اور اس کی فوج نے انگلینڈ پر قبضہ کر لیا۔ تو انہوں نے کرسمس منانے پر پابندی لگا دی۔ لیکن چارلس تھوم کی عوام میں مقبولیت ہونے کے باعث اس کو دوبارہ تخت نشین ہونا پڑا۔ اس لئے اس تہوار کو پھر سے منانے کی اجازت دے دی گئی۔
جب یہ تہوار امریکہ میں پہنچا تو اس کو منانے کے طریقہ کار کو مزید نکھارا گیا۔ اور اس کو امن اور دوستی کے تہوار کی شکل دی۔

: (کرسمس کا درخت (ٹری

History of Christmas Tree in Urdu
جہاں تک بات کرسمس کے درخت کو سجانے کی ہے تو زمانہ قدیم سے ہی اس سدا بہار درخت کو طاقت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اہل روم اور شمالی یورپ کے باشندے اس درخت کی شاخوں کو تبرک کے طور پر گھروں میں سجاتے تھے۔ لیکن جدید کرسمس کے درخت کو سجانے کی رسم کا آغاز جرمنی سے ہوا۔ جہاں حضرت عیسیٰ کی ولادت کا واقع ایک ٹیبلو کی شکل میں ہوتا تھا۔ اور اس دوران اس درخت کو حضرت مریم علیہا السلام کا ساتھی بنا کر پیش کرتے۔ اور وہ اس بات کو بتاتے ہیں کہ کیسے حضرت مریم اپنے دکھ اور تنہائی کا وقت اس درخت کے پاس بیٹھ کر گزار دیتی ہیں۔ اس درخت کو ایک سٹیج پر سجایا جاتا۔ اور یہ رسم آہستہ آہستہ کرسمس ٹری کی شکل اختیار کر گئی۔ اور لوگ اس کو اپنے گھر میں ہی سجاتے تھے۔ بہت عرصہ تک اس درخت کی رسم صرف جرمنی تک رہی۔ لیکن 1847 میں ملکہ وکٹوریہ کا خاوند جرمنی گیا۔ اور اس نے پہلی مرتبہ لوگوں کو کرسمس کا درخت بناتے اور سجاتے دیکھا۔ اس کو یہ رسم بہت اچھی لگی۔ اس لئے وہ واپسی پر اپنے ساتھ ایک درخت لے کر گیا۔ اور 1848 میں اس نے پہلی مرتبہ لندن میں کرسمس ٹری بنوایا۔ یہ بہت بڑا درخت تھا جس کو شاہی محل کے سامنے آویزاں کیا۔ اور اس درخت کو دیکھنے کے لئے لاکھوں لوگ اکٹھے ہوئے۔ اور آج یہ ہر مسیحی گھر میں بنتا ہے۔

 

https://angraizee.com/hazrat-hakeem-luqman-ka-kissa/

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button