Quote and stories

Information about Hazrat Muhammad in Urdu

 

مکی زندگی

ولادت با سعادت:
آپﷺ کی ولادت مکہ مکرمہ میں 12 ربیع الاول کو، سوموار کے دن، 571 عیسوی، 22 اپریل کو ہوئی۔
کچھ علماء کے نزدیک آپ کی ولادت بارہ کے بجائے نو ربیع الاول کو ہوئی۔

نام:
آپ ﷺ کا نام آپ کے دادا نے محمد رکھا، اور آپ کی والدہ نے آپ کا نام احمد رکھا۔

خاندان:
آپ ﷺ کا قبیلہ بنو ہاشم تھا۔ آپ کا خاندان قریش تھا۔

والدین:
آپﷺ کے والد کا نام حضرت عبداللہ تھا۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت آمنہ تھا۔

بہن بھائی:
آپ ﷺ کا کوئی بھی سگا بہن بھائی نہیں تھا۔ آپ اکلوتے تھے۔ البتہ آپ کی ایک رضائی بہن تھی جن کا نام شیما تھا۔ شیما حضرت حلیمہ سعدیہ کی بیٹی تھی۔ اس کے علاوہ حضرت حمزہ رضی اللہ آپ کے رضاعی بھائی تھے، خضرت حمزہ رشتے میں آپ کے چچا تھے۔

اہم رشتہ دار:
آپ ﷺ کے دادا کا نام عبد المطلب تھا۔ آپ کی دادی کا نام فاطمہ تھا۔
آپ کے نانا کا نام وہاب تھا۔ اور آپ کی نانی کا نام برہ تھا۔

رضاعت:
آپ ﷺ آٹھ دنوں کے تھے جب آپ کو آپ کے چچا ابو لہب کی لونڈی کے حوالے کیا گیا۔ ثوبیہ آپ کی پہلی رضائی والدہ ہیں۔ آپ کو دوسری رضائی والدہ حضرت حلیمہ سعدیہ ہیں۔ آپ چار سال تک حضرت حلیمہ کے پاس رہے۔

سورہ مزمل کی فضیلت اور فوائد پڑھیں

 

والدہ کی وفات:
آپ ﷺ کی عمر مبارک چھ برس تھی جب آپ کی والدہ کا انتقال ہوا۔ آپ اور آپ کی والدہ مدینہ منورہ حضرت عبداللہ کی قبر مبارک کی زیارت کرنے گے تھے۔
ایک ماہ تک وہاں رکے۔ وآپس آتے ہوئے راستے میں ابوا کے مقام پر حضرت آمنہ کا انتقال ہو گیا۔ وہاں سے حضرت ام ایمن آپ کو مکہ لے کر آئیں۔

کفالت:
والدہ کے انتقال کے بعد دو سال تک آپ کی پرورش آپ کے دادا نے کی۔ دادا کا انتقال ہونے کے بعد آپ کی پرورش آپ کے چچا حضرت ابو طالب نے کی۔

تجارت:
آپ ﷺ نے اپنا پہلا تجارتی سفر بارہ سال کی عمر میں کیا۔ یہ سفر ملک شام کی طرف تھا۔ اس سفر میں آپ کے ساتھ آپ کے چچا حضرت ابو طالب تھے۔

آپ نے اپنا دوسرا تجارتی سفر پچیس سال کی عمر میں کیا۔ وہ سفر بھی ملک شام کا تھا۔ اس سفر میں آپ حضرت خدیجہ کا مال فروخت کرنے گئے۔ آپ کے ساتھ حضرت خدیجہ کا غلام میسرہ بھی تھا۔

شادی:
آپ ﷺ نے پچیس برس کی عمر میں حضرت خدیجہ سے شادی کی۔ اس وقت حضرت خدیجہ کی عمر چالیس برس تھی۔
حضرت خدیجہ نے اپنی سہیلی نفیسہ کے ہاتھ آپ کو پیغام بھیجا۔ آپ نے اپنے چچا کی اجازت سے شادی کی۔

اولاد:
آپ ﷺ کی چار بیٹیاں تھی۔ جن میں حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم، اور حضرت فاطمہ زہرہ شامل ہیں۔
آپ کے تین بیٹے تھے جن میں ابرہیم، عبداللہ اور قاسم ہیں

نبوت:
آپ ﷺ کو چالیس برس کی عمر میں نبوت ملی۔
آپ غار حرا میں تھے جب آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔ پہلی وحی میں سورہ حلق کی پانچ آیات نازل ہوئیں۔

:بیویاں

آپ ﷺ کی گیارہ بیویوں تھیں جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔

حضرت خدیجتہ الکبری

حضرت سودہ بنت ظوا

حضرت عائشہ صدیقہ

حضرت زینب بنت خزیمہ

حضرت ام سلمہ ہند بنت ابی امیہ

حضرت خفصہ بنت عمر

حضرت زینب بنت جحش

حضرت ریخانا بنت زائد

حضرت جویریہ بنت حارث

حضرت رامیا بنت ابوسفیان

حضرت سفیہ

حضرت میمونہ بنت حارث

حضرت ماریہ بنت قبطیہ

 

ہجرت حبشہ اولی

کفار مکہ نے مسلمانوں پر بہت ظلم کئے جس کی وجہ سے مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ حبشہ کے بادشاہ کا لقب نجاشی تھا اور اصل نام اصحمہ تھا۔

ہجرت حبشہ ثانیہ

پہلے مسلمانوں نے دوبارہ سے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی جس کو ہجرت حبشہ ثانیہ کہتے ہیں۔ اس میں تریاسی مرد اور اٹھارہ عورتیں شامل تھیں۔ چھ نبوی کو حضرت حمزہ اور حضرت عمر اسلام میں داخل ہوئے۔

شعب ابی طالب

سات نبوی سے لے کر دس نبوی تک مسلمان ایک گھاٹی میں قید رہے جس کو شعب ابی طالب کا نام دیا گیا۔ اس کا دورانیہ تین سال تھا۔

عام الحزن

دس نبوی کو آپ ﷺ کے چچا حضرت ابو طالب اور آپ کی زوجہ حضرت خدیجہ کا انتقال ہوا۔

واقع معراج

ستائیس رجب دس نبوی کو آپ معراج پر گئے۔ وہاں آپ نے ساتویں آسمانی کی سیر کی۔ اور اللہ پاک سے ملاقات فرمائی۔

بعیت عقبہ اولی

آپ کی عمر باون سال تھی جب بعیت عقبہ اولیٰ ہوا۔ نبوت کے بارویں سال بارہ لوگ بیعت عقبہ میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔ ان میں سات مرد اور پانچ عورتیں شامل تھیں۔

بعیت عقبہ ثانیہ

نبوت کے تیرویں سال چوہتر لوگوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا جن میں دو عورتیں اور بہتر مرد شامل تھے۔

تعلقات:
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محبت اور اخوت کے پیکر تھے۔
آپ ہمیشہ عاجزی اور انکساری سے رہتے۔
رات بھر خدا کے حضور اپنی امت کے لئے دعا کرتے۔
آپ کی حیا بے مثال تھی۔
آپ انسانوں اور جانوروں ہر چیز پر رحم کرتے۔
آپ غریبوں اور حاجت مندوں کی ضرورت پوری کرتے۔
عفوو درگزر آپ کی امتیازی صفت تھی۔
آپ سچائی اور ایمانداری کی وجہ سے پورے عرب میں مشہور تھے۔
دشمن بھی آپ کی تعریف کرتے اور آپ کو صادق امین کہتے اور اپنی امانتوں کو آپ کے پاس رکھتے۔
آپ اپنے دشمنوں کو معاف کر دیتے تھے۔
آپ نے غلاموں سے برابری کے سلوک کا حکم دیا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button